12- سورة يُوسُفَ: وَقَالَ فُضَيْلٌ: عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، مُتَّكَأً: الْأُتْرُجُّ، قَالَ فُضَيْلٌ: الْأُتْرُجُّ بِالْحَبَشِيَّةِ مُتْكًا، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، مُتْكًا، قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ قُطِعَ بِالسِّكِّينِ، وَقَالَ قَتَادَةُ: لَذُو عِلْمٍ: لِمَا عَلَّمْنَاهُ عَامِلٌ بِمَا عَلِمَ، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، صُوَاعَ الْمَلِكِ مَكُّوكُ الْفَارِسِيِّ: الَّذِي يَلْتَقِي طَرَفَاهُ كَانَتْ تَشْرَبُ بِهِ الْأَعَاجِمُ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تُفَنِّدُونِ: تُجَهِّلُونِ، وَقَالَ غَيْرُهُ: غَيَابَةٌ كُلُّ شَيْءٍ غَيَّبَ عَنْكَ شَيْئًا فَهُوَ غَيَابَةٌ، وَالْجُبُّ الرَّكِيَّةُ الَّتِي لَمْ تُطْوَ، بِمُؤْمِنٍ لَنَا: بِمُصَدِّقٍ، أَشُدَّهُ: قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ فِي النُّقْصَانِ، يُقَالُ: بَلَغَ أَشُدَّهُ، وَبَلَغُوا أَشُدَّهُمْ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَاحِدُهَا شَدٌّ، وَالْمُتَّكَأُ مَا اتَّكَأْتَ عَلَيْهِ لِشَرَابٍ، أَوْ لِحَدِيثٍ، أَوْ لِطَعَامٍ، وَأَبْطَلَ الَّذِي، قَالَ: الْأُتْرُجُّ وَلَيْسَ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ الْأُتْرُجُّ، فَلَمَّا احْتُجَّ عَلَيْهِمْ بِأَنَّهُ الْمُتَّكَأُ مِنْ نَمَارِقَ فَرُّوا إِلَى شَرٍّ مِنْهُ، فَقَالُوا: إِنَّمَا هُوَ الْمُتْكُ سَاكِنَةَ التَّاءِ، وَإِنَّمَا الْمُتْكُ طَرَفُ الْبَظْرِ، وَمِنْ ذَلِكَ قِيلَ لَهَا: مَتْكَاءُ وَابْنُ الْمَتْكَاءِ، فَإِنْ كَانَ ثَمَّ أُتْرُجٌّ، فَإِنَّهُ بَعْدَ الْمُتَّكَإِ، شَغَفَهَا، يُقَالُ: بَلَغَ شِغَافَهَا، وَهُوَ غِلَافُ قَلْبِهَا، وَأَمَّا شَعَفَهَا فَمِنَ الْمَشْعُوفِ، أَصْبُ: أَمِيلُ صَبَا مَالَ، أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ: مَا لَا تَأْوِيلَ لَهُ، وَالضِّغْثُ مِلْءُ الْيَدِ مِنْ حَشِيشٍ وَمَا أَشْبَهَهُ وَمِنْهُ، وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا لَا مِنْ قَوْلِهِ أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ وَاحِدُهَا ضِغْثٌ، نَمِيرُ: مِنَ الْمِيرَةِ، وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ: مَا يَحْمِلُ بَعِيرٌ، أَوَى إِلَيْهِ: ضَمَّ إِلَيْهِ السِّقَايَةُ مِكْيَالٌ، تَفْتَأُ: لَا تَزَالُ، حَرَضًا: مُحْرَضًا يُذِيبُكَ الْهَمُّ، تَحَسَّسُوا: تَخَبَّرُوا، مُزْجَاةٍ: قَلِيلَةٍ، غَاشِيَةٌ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ: عَامَّةٌ مُجَلِّلَةٌ.
باب : سورة یوسف کی تفسیر اور فضیل بن عیاض (زاہد مشہور) نے حصین بن عبدالرحمٰن سے روایت کیا، انہوں نے مجاہد سے انہوں نے کہا متكأکا معنی لأترجاور خود فضیل نے بھی کہا کہ متكأحبشی زبان میں لأترجکو کہتے ہیں۔ اور سفیان بن عیینہ نے ایک شخص (نام نامعلوم) سے روایت کی اس نے مجاہد سے انہوں نے کہا۔ متكأوہ چیز جو چھری سے کاٹی جائے (میوہ ہو یا ترکاری) ۔ اور قتادہ نے کہا ذو علمکا معنی اپنے علم پر عمل کرنے والا۔ اور سعید بن جبیر نے کہا صواعایک ماپ ہے جس کو مكوک الفارسيبھی کہتے ہیں یہ ایک گلاس کی طرح کا ہوتا ہے جس کے دونوں کنارے مل جاتے ہیں۔ عجم کے لوگ اس میں پانی پیا کرتے ہیں۔ اور ابن عباس نے کہا لو لا ان تفندوناگر تم مجھ کو جاہل نہ کہو۔ دوسرے لوگوں نے کہا غيابةوہ چیز جو دوسری چیز کو چھپاوے غائب کر دے اور جب کچا کنواں جس کی بندش نہ ہوئی ہو۔ وما انت بمؤمن لنایعنی تو ہماری بات سچ ماننے والا نہیں۔ أشدهوہ عمر جو زمانہ انحطاط سے پہلے ہو (تیس سے چالیس برس تک) عرب بولا کرتے ہیں۔ بلغ أشده وبلغوا أشدهم یعنی اپنی جوانی کی عمر کو پہنچا یا پہنچے۔ بعضوں نے کہا اشد، شدکی جمع ہے۔ متكأمسند، تکیہ جس پر تو پینے کھانے یا باتیں کرنے کے لیے ٹیکا دے۔ اور جس نے یہ کہا کہ متكأ، لأترجکو کہتے ہیں اس نے غلط کہا۔ عربی زبان میں متكأکے معنی لأترجکے بالکل نہیں آئے ہیں جب اس شخص سے جو متكأکے معنی لأترجکہتا ہے اصل بیان کی گئی کہ متكأمسند یا تکیہ کو کہتے ہیں تو وہ اس سے بھی بدتر ایک بات کہنے لگا کہ یہ لفظ المتک ساکنة التاءہے۔ حالانکہ متكعربی زبان میں عورت کی شرمگاہ کو کہتے ہیں۔ جہاں عورت کو ختنہ کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ عورت کو عربی زبان میں متكأ ( متك والی) کہتے ہیں اور آدمی کو متكأکا پیٹ کہتے ہیں۔ اگر بالفرض زلیخا نے لأترجبھی منگوا کر عورتوں کو دیا ہوگا تو مسند تکیہ کے بعد دیا ہوگا۔ شعفهایعنی اس کے دل کے شغاف (غلاف) میں اس کی محبت سما گئی ہے۔ بعضوں نے شعفهاعین مہملہ سے پڑھا ہے وہ مشعوفسے نکلا ہے۔ أصبکا معنی مائل ہوجاؤں گا جھک پڑوں گا۔ أضغاث أحلامپریشان خواب جس کی کچھ تعبیر نہ دی جاسکے۔ اصل میں أضغاث، ضغثکی جمع ہے یعنی ایک مٹھی بھر گھاس تنکے وغیرہ اس سے ہے (سورۃ ص میں) خذ بيدک ضغثایعنی اپنے ہاتھ میں سینکوں کا ایک مٹھا لے۔ اور أضغاث أحلاممیں ضغثکے یہ معنی مراد نہیں ہیں۔ بلکہ پریشان خواب مراد ہے۔ نمير، ميرةسے نکلا ہے اس کے معنی کھانے کے ہیں۔ ونزداد كيل بعيریعنی ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ لائیں گے۔ أوى إليهاپنے سے ملا لیا۔ اپنے پاس بیٹھا لیا۔ سقايةایک ماپ تھا (جس سے غلہ ماپتے تھے) ۔ تفتأہمیشہ رہو گے۔ فلما استياسواجب ناامید ہوگئے۔ ولا تياسوا من روح الله اللہ سے امید رکھو اس کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ خلصوا نجياالگ جا کر مشورہ کرنے لگے۔ نجيکا معنی مشورہ کرنے والا۔ اس کی جمع انجيةبھی آئی ہے اس سے بنا ہے يتنا جونیعنی مشورہ کر رہے ہیں۔ نجيمفرد کا صیغہ ہے اور تثنیہ اور جمع میں نجياور انجيةدونوں مستعمل ہیں۔ حرضایعنی رنج و غم تجھ کو گلا ڈالے گا۔ تحسسوایعنی خبر لو، لو لگاؤ، تلاش کرو۔ مزجاةتھوڑی پونجی۔ غاشية من عذاب اللهاللہ کا عام عذاب جو سب کو گھیر لے۔