قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَادٍ: دَاعٍ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: صَدِيدٌ قَيْحٌ وَدَمٌ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ: أَيَادِيَ اللَّهِ عِنْدَكُمْ وَأَيَّامَهُ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ: رَغِبْتُمْ إِلَيْهِ فِيهِ، يَبْغُونَهَا عِوَجًا: يَلْتَمِسُونَ لَهَا عِوَجًا، وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ، أَعْلَمَكُمْ آذَنَكُمْ: رَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ، هَذَا مَثَلٌ كَفُّوا عَمَّا أُمِرُوا بِهِ، مَقَامِي: حَيْثُ يُقِيمُهُ اللَّهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، مِنْ وَرَائِهِ: قُدَّامَهُ جَهَنَّمُ، لَكُمْ تَبَعًا: وَاحِدُهَا تَابِعٌ مِثْلُ غَيَبٍ وَغَائِبٍ، بِمُصْرِخِكُمْ: اسْتَصْرَخَنِي اسْتَغَاثَنِي يَسْتَصْرِخُهُ مِنَ الصُّرَاخِ، وَلَا خِلَالَ: مَصْدَرُ خَالَلْتُهُ خِلَالًا وَيَجُوزُ أَيْضًا جَمْعُ خُلَّةٍ وَخِلَالٍ، اجْتُثَّتْ: اسْتُؤْصِلَتْ.
ابن عباس (رض) نے کہا هادکا معنی بلانے والا، ہدایت کرنے والا (نبی و رسول مراد ہیں) ۔ اور مجاہد نے کہا صديد کا معنی پیپ اور لہو۔ اور سفیان بن عیینہ نے کہ اذکروا نعمة الله عليكم کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی جو نعمتیں تمہارے پاس ہیں ان کو یاد کرو اور جو جو اگلے واقعات اس کی قدرت کے ہوئے ہیں اور مجاہد نے کہا من کل ما سألتموهکا معنی یہ ہے کہ جن جن چیزوں کی تم نے رغبت کی يبغونها عوجااس میں کجی پیدا کرنے کی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ وإذ تأذن ربکمجب تمہارے مالک نے تم کو خبردار کردیا جتلا دیا۔ ردوا أيديهم في أفواههم یہ عرب کی زبان میں ایک مثل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا جو حکم ہوا تھا اس سے باز رہے، بجا نہ لائے۔ مقاميوہ جگہ جہاں اللہ پاک اس کو اپنے سامنے کھڑا کرے گا۔ من ورائهسامنے سے۔ لكم تبعا، تبع، تابعکی جمع ہے جیسے غيب، غائبکی۔ بمصرخکمعرب لوگ کہتے ہیں استصرخنيیعنی اس نے میری فریاد سن لی۔ يستصرخهاس کی فریاد سنتا ہے دونوں صراخسے نکلے ہیں ( صراخ کا معنی فریاد) ۔ ولا خلال،خاللتهکا مصدر ہے اور خلةکی جمع بھی ہوسکتا ہے (یعنی اس دن دوستی نہ ہوگی یا دوستیاں نہ ہوں گی) اجتثت جڑ سے اکھاڑ لیا گیا۔