وَقَالَ مُجَاهِدٌ: صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ: الْحَقُّ يَرْجِعُ إِلَى اللَّهِ، وَعَلَيْهِ طَرِيقُهُ لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ عَلَى الطَّرِيقِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَعَمْرُكَ: لَعَيْشُكَ، قَوْمٌ مُنْكَرُونَ: أَنْكَرَهُمْ لُوطٌ، وَقَالَ غَيْرُهُ: كِتَابٌ مَعْلُومٌ: أَجَلٌ، لَوْ مَا تَأْتِينَا: هَلَّا تَأْتِينَا شِيَعٌ أُمَمٌ وَلِلْأَوْلِيَاءِ أَيْضًا شِيَعٌ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يُهْرَعُونَ: مُسْرِعِينَ، لِلْمُتَوَسِّمِينَ: لِلنَّاظِرِينَ، سُكِّرَتْ: غُشِّيَتْ، بُرُوجًا: مَنَازِلَ لِلشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، لَوَاقِحَ: مَلَاقِحَ مُلْقَحَةً، حَمَإٍ، جَمَاعَةُ حَمْأَةٍ وَهُوَ الطِّينُ الْمُتَغَيِّرُ وَالْمَسْنُونُ الْمَصْبُوبُ تَوْجَلْ تَخَفْ، دَابِرَ: آخِرَ، لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ: الْإِمَامُ كُلُّ مَا ائْتَمَمْتَ وَاهْتَدَيْتَ بِهِ، الصَّيْحَةُ: الْهَلَكَةُ
مجاہد نے کہا صراط على مستقيمکا معنی سچا راستہ جو اللہ تک پہنچتا ہے۔ اللہ کی طرف جاتا ہے لبإمام مبينیعنی کھلے راستے پر۔ اور ابن عباس (رض) نے کہا لعمرککا معنی یعنی تیری زندگی کی قسم۔ قوم منکرونلوط نے ان کو اجنبی پردیسی سمجھا۔ دوسرے لوگوں نے کہا کتاب معلومکا معنی معین میعاد۔ لوما تاتيناکیوں ہمارے پاس نہیں لاتا۔ شيع امتیں اور کبھی دوستوں کو بھی شيع کہتے ہیں اور ابن عباس (رض) نے کہا يهرعونکا معنی دوڑتے، جلدی کرتے۔ للمتوسمين دیکھنے والوں کے لیے۔ سكرت ڈھانکی گئیں۔ بروجا، برجیعنی سورج چاند کی منزلیں۔ لواقح، ملاقحکے معنی میں ہے جو ملفحةکی جمع یعنی حاملہ کرنے والی۔ حما، حماةکی جمع ہے بدبودار کیچڑ۔ مسنونقالب میں ڈھالی گئی۔ لا توجلمت ڈر۔ دابر اخر (دم) ۔ لبامام مبين امام، وہ شخص جس کی تو پیروی کرے اس سے راہ پائے۔ الصيحةہلاکت کے معنی میں ہے۔