قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرِ اللَّهُ يَقُولُهُ وَهُمُ الْيَوْمَ لَا يَسْمَعُونَ وَلَا يُبْصِرُونَ، فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ، يَعْنِي قَوْلَهُ: أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ: الْكُفَّارُ يَوْمَئِذٍ أَسْمَعُ شَيْءٍ وَأَبْصَرُهُ، لَأَرْجُمَنَّكَ: لَأَشْتِمَنَّكَ، وَرِئْيًا: مَنْظَرًا، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: تَؤُزُّهُمْ أَزًّا: تُزْعِجُهُمْ إِلَى الْمَعَاصِي إِزْعَاجًا، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: إِدًّا: عِوَجًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وِرْدًا: عِطَاشًا، أَثَاثًا: مَالًا، إِدًّا: قَوْلًا عَظِيمًا، رِكْزًا: صَوْتًا، غَيًّا: خُسْرَانًا، بُكِيًّا: جَمَاعَةُ بَاكٍ، صِلِيًّا: صَلِيَ يَصْلَى، نَدِيًّا: وَالنَّادِي مَجْلِسًا.
ابن عباس (رض) نے کہا أبصر بهم وأسمعیہ اللہ فرماتا ہے آج کے دن (یعنی دنیا میں) نہ تو کافر سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں بلکہ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ أسمع بهم وأبصریعنی کافر قیامت کے دن خوب سنتے اور خوب دیکھتے ہوں گے (مگر اس وقت کا سننا دیکھنا کچھ فائدہ نہ دے گا) ۔ لأرجمنک میں تجھ پر گالیوں کا پتھراؤ کروں گا۔ لفظ رئياکے معنی منظر، دکھاوا اور ابو وائل شقیق بن سلمہ نے کہا مریم (علیہا السلام) جانتی تھیں کہ جو پرہیزگار ہوتا ہے وہ صاحب عقل ہوتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے کہا میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں اگر تو پرہیزگار ہے۔ اور سفیان بن عیینہ نے کہا تؤزهم أزاکا معنی یہ ہے کہ شیطان کافروں کو گناہوں کی طرف گھسیٹتے ہیں۔ مجاہد نے کہا إداکے معنی کج اور ٹیڑھی، غلط بات (یا کج اور ٹیڑھی باتیں) ۔ ابن عباس (رض) نے کہا ورداکے معنی پیاسے کے ہیں اور أثاثاکے معنی مال اسباب۔ إدابڑی بات۔ ركزاہلکی، پست آواز۔ غيانقصان، ٹوٹا۔ بكيا، باكىکی جمع ہے یعنی رونے والے۔ صليامصدر ہے۔ صلي، يصلى باب سمع، يسمعسے یعنی جلنا۔ ندياور لناديدونوں کے معنی مجلس کے ہیں۔