قَالَ عِكْرِمَةُ، وَالضَّحَّاكُ بِالنَّبَطِيَّةِ، طَهْ: يَا رَجُلُ يُقَالُ كُلُّ مَا لَمْ يَنْطِقْ بِحَرْفٍ أَوْ فِيهِ تَمْتَمَةٌ أَوْ فَأْفَأَةٌ فَهِيَ عُقْدَةٌ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: أَلْقَى صَنَعَ، أَزْرِي: ظَهْرِي، فَيَسْحَتَكُمْ: يُهْلِكَكُمْ، الْمُثْلَى: تَأْنِيثُ الْأَمْثَلِ، يَقُولُ بِدِينِكُمْ يُقَالُ خُذْ الْمُثْلَى خُذْ الْأَمْثَلَ، ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا، يُقَالُ: هَلْ أَتَيْتَ الصَّفَّ الْيَوْمَ يَعْنِي الْمُصَلَّى الَّذِي يُصَلَّى فِيهِ، فَأَوْجَسَ: فِي نَفْسِهِ خَوْفًا، فَذَهَبَتِ الْوَاوُ مِنْ خِيفَةً لِكَسْرَةِ الْخَاءِ، فِي جُذُوعِ: أَيْ عَلَى جُذُوعِ النَّخْلِ، خَطْبُكَ: بَالُكَ، مِسَاسَ: مَصْدَرُ مَاسَّهُ مِسَاسًا، لَنَنْسِفَنَّهُ: لَنَذْرِيَنَّهُ، قَاعًا: يَعْلُوهُ الْمَاءُ وَالصَّفْصَفُ الْمُسْتَوِي مِنَ الْأَرْضِ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: أَوْزَارًا أَثْقَالًا، مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ: وَهِيَ الْحُلِيُّ الَّتِي اسْتَعَارُوا مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ وَهِيَ الْأَثْقَالُ، فَقَذَفْتُهَا، فَأَلْقَيْتُهَا، أَلْقَى: صَنَعَ، فَنَسِيَ: مُوسَى هُمْ يَقُولُونَهُ أَخْطَأَ الرَّبَّ، لَا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا: الْعِجْلُ، هَمْسًا: حِسُّ الْأَقْدَامِ، حَشَرْتَنِي أَعْمَى: عَنْ حُجَّتِي، وَقَدْ كُنْتُ بَصِيرًا: فِي الدُّنْيَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بِقَبَسٍ ضَلُّوا الطَّرِيقَ وَكَانُوا شَاتِينَ، فَقَالَ: إِنْ لَمْ أَجِدْ عَلَيْهَا مَنْ يَهْدِي الطَّرِيقَ آتِكُمْ بِنَارٍ تُوقِدُونَ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: أَمْثَلُهُمْ: أَعْدَلُهُمْ طَرِيقَةً، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَضْمًا: لَا يُظْلَمُ، فَيُهْضَمُ مِنْ حَسَنَاتِهِ، عِوَجًا: وَادِيًا، وَلَا، أَمْتًا: رَابِيَةً، سِيرَتَهَا: حَالَتَهَا الْأُولَى، النُّهَى: التُّقَى، ضَنْكًا: الشَّقَاءُ، هَوَى: شَقِيَ بِالْوَادِي، الْمُقَدَّسِ: الْمُبَارَكِ، طُوًى: اسْمُ الْوَادِي يَفْرُطُ عُقُوبَةً، بِمِلْكِنَا: بِأَمْرِنَا، مَكَانًا سِوًى: مَنْصَفٌ بَيْنَهُمْ، يَبَسًا: يَابِسًا، عَلَى قَدَرٍ: مَوْعِدٍ، لَا تَنِيَا: تَضْعُفَا.
سعید بن جبیر اور ضحاک بن مزاحم نے کہا حبشی زبان میں لفظ طهکے معنی اے مرد کے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جس کی زبان سے کوئی حرف نہ نکل سکے یا رک رک کر نکلے تو اس کی زبان میں عقدة.گرہ ہے۔ (موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا واحلل عقدة من لساني میں یہی اشارہ ہے) أزريکے معنی میری پیٹھ۔ فيسحتکمکے معنی تم کو ہلاک کر دے۔ لفظ المثلى، الأمثلکا مؤنث ہے یعنی تمہارا دین۔ عرب لوگ کہتے ہیں مثلىاچھی بات کرے۔ خذ الأمثل.یعنی بہتر بات لے۔ ثم ائتوا صفاعرب لوگ کہتے ہیں کیا آج تو صف میں گیا تھا ؟ یعنی نماز کے مقام میں جہاں جمع ہو کر نماز پڑھتے ہیں (جیسے عیدگاہ وغیرہ) ۔ فأوجسدل میں سہم گیا۔ خيفةاصل میں خوفةتھا واؤ بہ سبب کسرہ ما قبلیاء ہوگیا۔ في جذوع النخلکھجور کی شاخوں پر في عليکے معنی میں ہے۔ خطبکیعنی تیرا کیا حال ہے، تو نے یہ کام کیوں کیا۔ مساسمصدر ہے۔ ماسه، مساسا.سے یعنی چھونا۔ لننسفنهبکھیر ڈالیں گے یعنی جلا کر راکھ کو دریا میں بہا دیں گے۔ قاعاوہ زمین جس کے اوپر پانی چڑھ آئے (یعنی صاف ہموار میدان) ۔ صفصفاہموار زمین۔ اور مجاہد نے کہا من زينة القوم.سے وہ زیور مراد ہے جو بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے مانگ کرلیا تھا۔ فقذفتهامیں نے اس کو ڈال دیا۔ وکذالک ألقى السامريیعنی سامری نے بھی اور بنی اسرائیل کی طرح اپنا زیور ڈالا۔ فنسي موسىیعنی سامری اور اس کے تابعدار لوگ کہنے لگے موسیٰ چوک گیا کہ اپنے پروردگار بچھڑے کو یہاں چھوڑ کر کوہ طور پر چلا گیا۔ لا يرجع إليهم قولایعنی یہ نہیں دیکھتے کہ بچھڑا ان کی بات کو جواب تک نہیں دے سکتا۔ همساپاؤں کی آہٹ۔ حشرتني أعمىیعنی مجھ کو دنیا میں دلیل اور حجت معلوم ہوتی تھی یہاں تو نے بالکل مجھ کو اندھا کر کے کیوں اٹھایا۔ اور ابن عباس نے کہا لعلي اتيكم منها بقبسکے بیان میں کہ موسیٰ اور ان کے ساتھی راستہ بھول گئے تھے ادھر سردی میں مبتلا تھے کہنے لگے اگر وہاں کوئی راستہ بتانے والا ملا تو بہتر ورنہ میں تھوڑی سی آگ تمہارے تاپنے کے لیے لے آؤں گا۔ سفیان بن عیینہ نے (اپنی تفسیر میں) کہا أمثلهمیعنی ان میں کا افضل اور سمجھدار آدمی۔ اور ابن عباس نے کہا هضمایعنی اس پر ظلم نہ ہوگا اور اس کی نیکیوں کا ثواب کم نہ کیا جاوے گا۔ عوجانالا کھڈا۔ أمتاٹیلہ بلندی۔ سيرتها الأولىیعنی اگلی حالت پر۔ النهىپرہیزگاری یا عقل۔ ضنكابدبختی۔ هوىبدبخت ہوا۔ المقدسبرکت والی۔ طوىاس وادی کا نام تھا۔ بملکنا (بہ کسرئہ میم مشہور قرآت بہ ضمہ میم ہے بعضوں نے بہ ضم میم پڑھا ہے) یعنی اپنے اختیار اپنے حکم سے۔ سوىیعنی ہم میں اور تم میں برابر کے فاصلہ پر۔ يبساخشک علی قدر اپنے معین وقت پر جو اللہ پاک نے لکھ دیا تھا۔ لا تنياضعیف مت بنو، یا سستی نہ کرو۔