وَقَالَ مُجَاهِدٌ: تَعْبَثُونَ: تَبْنُونَ، هَضِيمٌ: يَتَفَتَّتُ إِذَا مُسَّ مُسَحَّرِينَ الْمَسْحُورِينَ لَيْكَةُ، وَالْأَيْكَةُ جَمْعُ أَيْكَةٍ وَهِيَ جَمْعُ شَجَرٍ، يَوْمِ الظُّلَّةِ: إِظْلَالُ الْعَذَابِ إِيَّاهُمْ، مَوْزُونٍ: مَعْلُومٍ، كَالطَّوْدِ: كَالْجَبَلِ، وَقَالَ غَيْرُهُ لَشِرْذِمَةٌ: الشِّرْذِمَةُ طَائِفَةٌ قَلِيلَةٌ، فِي السَّاجِدِينَ: الْمُصَلِّينَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ: كَأَنَّكُمُ الرِّيعُ الْأَيْفَاعُ مِنَ الْأَرْضِ، وَجَمْعُهُ رِيَعَةٌ وَأَرْيَاعٌ وَاحِدُهُ رِيعَةٌ، مَصَانِعَ: كُلُّ بِنَاءٍ فَهُوَ مَصْنَعَةٌ، فَرِهِينَ: مَرِحِينَ فَارِهِينَ بِمَعْنَاهُ، وَيُقَالُ: فَارِهِينَ حَاذِقِينَ، تَعْثَوْا: هُوَ أَشَدُّ الْفَسَادِ عَاثَ يَعِيثُ عَيْثًا الْجِبِلَّةَ الْخَلْقُ جُبِلَ خُلِقَ، وَمِنْهُ جُبُلًا وَجِبِلًا وَجُبْلًا يَعْنِي الْخَلْقَ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ.
مجاہد نے کہا لفظ تعبثونکا معنی بناتے ہو۔ هضيموہ چیز جو چھونے سے ریزہ ریزہ ہوجائے۔ مسحرينکا معنی جادو کئے گئے۔ ليكةاور لأيكةجمع ہے أيكةکی اور لفظ أيكةصحیح ہے۔ شجریعنی درخت۔ يوم الظلةیعنی وہ دن جس میں عذاب نے ان پر سایہ کیا تھا۔ موزونکا معنی معلوم۔ کالطودیعنی پہاڑ کی طرح۔ الشرذمةیعنی چھوٹا گروہ۔ في الساجدينیعنی نمازیوں میں۔ ابن عباس نے کہا لعلکم تخلدونکا معنی یہ ہے کہ جیسے ہمیشہ دنیا میں رہو گے۔ ريعبلند زمین جیسے ٹیلہ ريعمفرد ہے اس کی جمع ريعةاور أرياعآتی ہے۔ مصانعہر عمارت کو کہتے ہیں (یا اونچے اونچے محلوں کو) ۔ فرهينکا معنی اتراتے ہوئے خوش و خرم۔ فاتحهفارھین کا بھی یہی معنی ہے۔ بعضوں نے کہا فارهينکا معنی کاریگر ہوشیار تجربہ کار۔ تعثواجیسے عاث، يعيث، عيثا، عيثکہتے ہیں سخت فساد کرنے کو (دھند مچانا) ۔ تعثواکا وہی معنی ہے یعنی سخت فساد نہ کرو۔ خلقت جبلیعنی پیدا کیا گیا ہے۔ اسی سے جبلااور جبلااور جبلانکلا ہے یعنی خلقت۔