hadith book logo

Sahih Bukhari: Hadith 4788

.

صحيح البخاري

4788
Sahih Bukhari
صحیح
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هِشَامٌ حَدَّثَنَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، ‏‏‏‏‏‏وَأَقُولُ:‏‏‏‏ أَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكَ سورة الأحزاب آية 51، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مَا أُرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ.
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے اپنے والد سے سن کر بیان کیا اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ جو عورتیں اپنے نفس کو رسول اللہ ﷺ کے لیے ہبہ کرنے آتی تھیں مجھے ان پر بڑی غیرت آتی تھی۔ میں کہتی کہ کیا عورت خود ہی اپنے کو کسی مرد کے لیے پیش کرسکتی ہے ؟ پھر جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ترجئ من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت فلا جناح عليك‏ کہ ان میں سے جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے نزدیک رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا تھا اس میں سے کسی کو پھر طلب کرلیں جب بھی، آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ تو میں نے کہا کہ میں تو سمجھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی مراد بلا تاخیر پوری کردینا چاہتا ہے۔