يُقَالُ: مُعَاجِزِينَ: مُسَابِقِينَ، بِمُعْجِزِينَ: بِفَائِتِينَ، مُعَاجِزِيَّ: مُسَابِقِيَّ، سَبَقُوا: فَاتُوا، لَا يُعْجِزُونَ: لَا يَفُوتُونَ، يَسْبِقُونَا: يُعْجِزُونَا، وَقَوْلُهُ: بِمُعْجِزِينَ سورة الأنعام آية 134: بِفَائِتِينَ وَمَعْنَى، مُعَاجِزِينَ: مُغَالِبِينَ يُرِيدُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنْ يُظْهِرَ عَجْزَ صَاحِبِهِ مِعْشَارٌ عُشْرٌ، يُقَالُ: الْأُكُلُ الثَّمَرُ، بَاعِدْ: وَبَعِّدْ وَاحِدٌ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: لا يَعْزُبُ سورة سبأ آية 3: لَا يَغِيبُ سَيْلَ الْعَرِمِ السُّدُّ مَاءٌ أَحْمَرُ أَرْسَلَهُ اللَّهُ فِي السُّدِّ فَشَقَّهُ وَهَدَمَهُ وَحَفَرَ، الْوَادِيَ، فَارْتَفَعَتَا عَنِ الْجَنْبَيْنِ، وَغَابَ عَنْهُمَا الْمَاءُ فَيَبِسَتَا، وَلَمْ يَكُنِ الْمَاءُ الْأَحْمَرُ مِنَ السُّدِّ، وَلَكِنْ كَانَ عَذَابًا أَرْسَلَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَيْثُ شَاءَ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ: الْعَرِمُ الْمُسَنَّاةُ بِلَحْنِ أَهْلِ الْيَمَنِ، وَقَالَ غَيْرُهُ: الْعَرِمُ الْوَادِي السَّابِغَاتُ الدُّرُوعُ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: يُجَازَى يُعَاقَبُ، أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ: بِطَاعَةِ اللَّهِ، مَثْنَى وَفُرَادَى: وَاحِدٌ وَاثْنَيْنِ، التَّنَاوُشُ: الرَّدُّ مِنَ الْآخِرَةِ إِلَى الدُّنْيَا، وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ: مِنْ مَالٍ أَوْ وَلَدٍ أَوْ زَهْرَةٍ، بِأَشْيَاعِهِمْ: بِأَمْثَالِهِمْ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَالْجَوَابِ: كَالْجَوْبَةِ مِنَ الْأَرْضِ الْخَمْطُ الْأَرَاكُ وَالْأَثَلُ الطَّرْفَاءُ الْعَرِمُ الشَّدِيدُ.
معاجزين کے معنی آگے بڑھنے والے۔ بمعجزينہمارے ہاتھ سے نکل جانے والے۔ سبقواکے معنی ہمارے ہاتھ سے نکل گئے۔ لا يعجزونہمارے ہاتھ سے نہیں نکل سکتے۔ يسبقوناہم کو عاجز کرسکیں گے۔ بمعجزينعاجز کرنے والے (جیسے مشہور قرآت ہے) اور معاجزين (جو دوسری قرآت ہے) اس کا معنی ایک دوسرے پر غلبہ ڈھونڈنے والے ایک دوسرے کا عجز ظاہر کرنے والے۔ معشارکا معنی دسواں حصہ۔ لأكلپھل۔ باعد (جیسے مشہور قرآت ہے) اور بعدجو ابن کثیر کی قرآت ہے دونوں کا معنی ایک ہے اور مجاہد نے کہا لا يعزبکا معنی اس سے غائب نہیں ہوتا۔ العرموہ بند یا ایک لال پانی تھا جس کو اللہ پاک نے بند پر بھیجا وہ پھٹ کر گرگیا اور میدان میں گڑھا پڑگیا۔ باغ دونوں طرف سے اونچے ہوگئے پھر پانی غائب ہوگیا۔ دونوں باغ سوکھ گئے اور یہ لال پانی بند میں سے بہہ کر نہیں آیا تھا بلکہ اللہ کا عذاب تھا جہاں سے چاہا وہاں سے بھیجا اور عمرو بن شرحبیل نے کہا عرمکہتے ہیں بند کو یمن والوں کی زبان میں۔ دوسروں نے کہا کہ عرمکے معنی نالے کے ہیں۔ السابغاتکے معنی زرہیں۔ مجاہد نے کہا۔ يجازىکے معنی عذاب دیئے جاتے ہیں۔ أعظکم بواحدةیعنی میں تم کو اللہ کی اطاعت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ مثنىدو دو کو۔ فرادىایک ایک کو کہتے ہیں۔ التناوشآخرت سے پھر دنیا میں آنا (جو ممکن نہیں ہے) ۔ ما يشتهونان کی خواہشات مال و اولاد دنیا کی زیب و زینت۔ بأشياعهمان کی جوڑ والے دوسرے کافر۔ ابن عباس (رض) نے کہا کالجوابجیسے پانی بھرنے کے گڑھے جیسے جوبتهکہتے ہیں حوض کو۔ امام بخاری (رح) کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جواباور جوبةکا مادہ ایک ہے کیونکہ جوابى، جابيةکا جمع ہے۔ اس کا عین کلمہ ب اور جوبةکا عین کلمہ واؤ ہے۔ خمطپیلو کا درخت۔ لأثلجھاؤ کا درخت۔ العرمسخت زور کی (بارش) ۔