67- سورة الْمُلْكِ: التَّفَاوُتُ الِاخْتِلَافُ وَالتَّفَاوُتُ وَالتَّفَوُّتُ وَاحِدٌ تَمَيَّزُ تَقَطَّعُ: مَنَاكِبِهَا، جَوَانِبِهَا: تَدَّعُونَ، وَتَدْعُونَ وَاحِدٌ مِثْلُ تَذَّكَّرُونَ وَتَذْكُرُونَ، وَيَقْبِضْنَ يَضْرِبْنَ بِأَجْنِحَتِهِنَّ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: صَافَّاتٍ: بَسْطُ أَجْنِحَتِهِنَّ وَنُفُورٌ الْكُفُورُ.
باب : سورة الملک کی تفسیر التفاوت کا معنی اختلاف، فرق تفاوت اور تفوت دونوں کا ایک معنی ہے۔ تميزٹکڑے ٹکڑے ہوجائے۔ مناکبهااس کے کناروں میں۔ تدعون (دال کی تشدید) اور تدعون (دال کے جزم کے ساتھ) دونوں کا ایک ہی معنی ہے جیسے تذکرون.اور تذکرون (ذال کے جزم کے ساتھ) کا ایک ہی معنی ہے۔ يقبضناپنے پنکھ مارتے ہیں (یا سمیٹ لیتے ہیں) ۔ مجاہد نے کہا صافاتکے معنی اپنے بازو کھولے ہوئے۔ نفورسے کفر اور شرارت مراد ہے۔