94- سورة {أَلَمْ نَشْرَحْ}: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وِزْرَكَ: فِي الْجَاهِلِيَّةِ، أَنْقَضَ: أَثْقَلَ مَعَ، الْعُسْرِ يُسْرًا، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: أَيْ مَعَ ذَلِكَ الْعُسْرِ يُسْرًا آخَرَ كَقَوْلِهِ: هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ: وَلَنْ يَغْلِبَ عُسْرٌ يُسْرَيْنِ، وَقَال مُجَاهِدٌ: فَانْصَبْ: فِي حَاجَتِكَ إِلَى رَبِّكَ وَيُذْكَرُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ سورة الشرح آية 1شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ.
باب : سورة ألم نشرح کی تفسیر مجاہد نے کہا وزرکسے وہ باتیں مراد ہیں جو نبی کریم ﷺ سے جاہلیت کے زمانہ میں صادر ہوئیں (ترک اولیٰ وغیرہ) ۔ أنقضکے معنی بھاری کیا۔ مع العسر يسراسفیان بن عیینہ نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مصیبت کے ساتھ دو نعمتیں ملتی ہیں جیسے آیت هل تربصون بنا إلا إحدى الحسنيين میں مسلمانوں کے لیے دو نیکیاں مراد ہیں اور حدیث میں ہے ایک مصیبت دو نیکیوں پر غالب نہیں آسکتی اور مجاہد نے کہا فانصبیعنی اپنے پروردگار سے دعا مانگنے میں محنت اٹھا۔ اور ابن عباس (رض) سے منقول ہے انہوں نے کہا ألم نشرح لک صدرکسے مراد ہے کہ ہم نے تیرا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا۔