حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) كَانَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا أَوْ أُتِيَ بِهِ، قَالَ: أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا، قَالَ عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ : وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْمَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبِي الضُّحَى ، إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ. حدیث نمبر: 5675 - وَقَالَ جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، وَحْدَهُ، وَقَالَ: إِذَا أَتَى مَرِيضًا.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یا کوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ ﷺ یہ دعا فرماتے أذهب الباس رب الناس، اشف وأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك، شفاء لا يغادر سقما اے پروردگار لوگوں کے ! بیماری دور کر دے، اے انسانوں کے پالنے والے ! شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء دے جس میں مرض بالکل باقی نہ رہے۔ اور عمرو بن ابی قیس اور ابراہیم بن طہمان نے منصور سے بیان کیا، انہوں نے ابراہیم اور ابوالضحیٰ سے کہ جب کوئی مریض نبی کریم ﷺ کے پاس لایا جاتا۔ اور جریر بن عبدالحمید نے منصور سے، انہوں نے ابوالضحی اکیلے سے یوں روایت کیا کہ آپ جب کسی بیمار کے پاس تشریف لے جاتے۔