حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ، قَالَ: وَمَا الْفَأْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اس میں بہتر فال نیک ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ نیک فال کیا ہے یا رسول اللہ ؟ فرمایا کلمہ صالحہ (نیک بات) جو تم میں سے کوئی سنے۔