حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فِي صَلَاةٍ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ (ﷺ) قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: لَقَدْ حَجَّرْتَ وَاسِعًا، يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم بھی نبی کریم ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ نماز پڑھتے ہی ایک دیہاتی نے کہا : اے اللہ ! مجھ پر رحم کر اور محمد (ﷺ ) پر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر۔ جب نبی کریم ﷺ نے سلام پھیرا تو دیہاتی سے فرمایا کہ تم نے ایک وسیع چیز کو تنگ کردیا آپ کی مراد اللہ کی رحمت سے تھی۔