أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ (ﷺ) رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ.
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے سر مبارک رکوع سے اٹھایا تو یہ دعا کی اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام، وعياش بن أبي ربيعة، والمستضعفين بمكة اے اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ میں دیگر موجود کمزور مسلمانوں کو نجات دیدے۔ اللهم اشدد وطأتک على مضر، اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف اے اللہ ! قبیلہ مضر کے کفاروں کو سخت پکڑ، اے اللہ ! ان پر یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ جیسا قحط نازل فرما۔