hadith book logo

Sahih Bukhari: Hadith 6226

.

صحيح البخاري

6226
Sahih Bukhari
صحیح
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ،‏‏‏‏ فَإِذَا عَطِسَ أَحَدُكُمْ وَحَمِدَ اللَّهَ كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ:‏‏‏‏ يَرْحَمُكَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ،‏‏‏‏ فَإِذَا تَثَاؤَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَثَاءَبَ ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ.
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے کیونکہ وہ بعض دفعہ صحت کی علامت ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے تو وہ الحمدللہ کہے لیکن جمائی لینا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنی قوت و طاقت کے مطابق اسے روکے۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔