حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ)، قَالَ: يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ كَأَنَّهُمُ الثَّعَارِيرُ، قُلْتُ: مَا الثَّعَارِيرُ ؟ قَالَ: الضَّغَابِيسُ، وَكَانَ قَدْ سَقَطَ فَمُهُ، فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَبَا مُحَمَّدٍ: سَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ (ﷺ) يَقُولُ: يَخْرُجُ بِالشَّفَاعَةِ مِنَ النَّارِ، قَالَ: نَعَمْ.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کچھ لوگ دوزخ سے شفاعت کے ذریعہ نکلیں گے گویا کہ ثعاريرہوں۔ حماد کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا کہ ثعاريرکیا چیز ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اس سے مراد چھوٹی ککڑیاں ہیں اور ہوا یہ تھا کہ آخر عمر میں عمرو بن دینار کے دانت گرگئے تھے۔ حماد کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا : اے ابومحمد ! (یہ عمرو بن دینار کی کنیت ہے) کیا آپ نے جابر بن عبداللہ (رض) سے یہ سنا ہے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ جہنم سے شفاعت کے ذریعہ لوگ نکلیں گے ؟ انہوں نے کہا ہاں بیشک سنا ہے۔