حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا سورة الكهف آية 73، قَالَ: كَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا.
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا مجھ کو سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس (رض) سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابی بن کعب (رض) نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آیت لا تؤاخذني بما نسيت ولا ترهقني من أمري عسرا کے متعلق کہ پہلی مرتبہ اعتراض موسیٰ (علیہ السلام) سے بھول کر ہوا تھا۔