حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ، قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ ، حَدَّثَكُمْ إِدْرِيسُ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33 قَالَ: كَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، يَرِثُ الْأَنْصَارِيُّ، الْمُهَاجِرِيَّ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ، لِلْأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ (ﷺ) بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ: وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 قَالَ: نَسَخَتْهَا: وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا کیا آپ سے ادریس نے بیان کیا تھا، ان سے طلحہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے ولکل جعلنا موالياور والذين عقدت أيمانکمکے متعلق بتلایا کہ مہاجرین جب مدینہ آئے تو ذوی الارحام کے علاوہ انصار و مہاجرین بھی ایک دوسرے کی وراثت پاتے تھے۔ اس بھائی چارگی کی وجہ سے جو نبی کریم ﷺ نے ان کے درمیان کرائی تھی، پھر جب آیت جعلنا موالينازل ہوئی تو فرمایا کہ اس نے والذين عقدت أيمانکمکو منسوخ کردیا۔