حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ، عَنْعِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا أَتَى مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ النَّبِيَّ (ﷺ)، قَالَ لَهُ: لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ غَمَزْتَ، أَوْ نَظَرْتَ، قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَنِكْتَهَالَا يَكْنِي، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ.
مجھ سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے کہا کہ میں نے یعلیٰ بن حکیم سے سنا، انہوں نے عکرمہ سے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ جب ماعز بن مالک نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ غالباً تو نے بوسہ دیا ہوگا یا اشارہ کیا ہوگا یا دیکھا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ ! نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کیا پھر تو نے ہمبستری ہی کرلی ہے ؟ اس مرتبہ آپ نے کنایہ سے کام نہیں لیا۔ بیان کیا کہ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے انہیں رجم کا حکم دیا۔