hadith book logo

Sahih Bukhari: Hadith 689

.

صحيح البخاري

689
Sahih Bukhari
صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا:‏‏‏‏ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:‏‏‏‏ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ:‏‏‏‏ قَوْلُهُ إِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِيمِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ (ﷺ) جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامًا لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُودِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ (ﷺ).
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک (رح) نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ ﷺ اس پر سے گرپڑے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو پر زخم آئے۔ تو آپ ﷺ نے کوئی نماز پڑھی۔ جسے آپ ﷺ بیٹھ کر پڑھ رہے تھے۔ اس لیے ہم نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا کہ امام اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ اس لیے جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ سمع الله لمن حمده‏کہے تو تم ربنا ولک الحمد‏کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) نے کہا کہ حمیدی نے آپ ﷺ کے اس قول جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔ کے متعلق کہا ہے کہ یہ ابتداء میں آپ ﷺ کی پرانی بیماری کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد آخری بیماری میں آپ ﷺ نے خود بیٹھ کر نماز پڑھی تھی اور لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر اقتداء کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے اس وقت لوگوں کو بیٹھنے کی ہدایت نہیں فرمائی اور اصل یہ ہے کہ جو فعل آپ ﷺ کا آخری ہو اس کو لینا چاہیے اور پھر جو اس سے آخری ہو۔