حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابني محمد بن علي، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قِيلَ لَهُ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍلَا يَرَى بِمُتْعَةِ النِّسَاءِ بَأْسًا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) نَهَى عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: إِنِ احْتَالَ حَتَّى تَمَتَّعَ فَالنِّكَاحُ فَاسِدٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: النِّكَاحُ جَائِزٌ وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے حسن اور عبداللہ بن محمد بن علی نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ علی (رض) سے کہا گیا کہ عبداللہ بن عباس (رض) عورتوں کے متعہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی لڑائی کے موقع پر متعہ سے اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کردیا تھا اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے حیلہ سے متعہ کرلیا تو نکاح فاسد ہے اور بعض لوگوں نے کہا کہ نکاح جائز ہوجائے گا اور میعاد کی شرط باطل ہوجائے گی۔