حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک بن انس سے بیان کیا، انہوں نے ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ظہر کی نماز میں) دو رکعت پڑھ کر نماز ختم کردی تو آپ ﷺ سے ذوالیدین نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اور لوگوں کی طرف دیکھ کر) پوچھا کیا ذوالیدین صحیح کہتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں ! پھر آپ ﷺ اٹھے اور دوسری دو رکعتیں بھی پڑھیں۔ پھر سلام پھیرا۔ پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا پہلے کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ۔