hadith book logo

Sahih Bukhari: Hadith 7302

.

صحيح البخاري

7302
Sahih Bukhari
صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ) وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ أَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ التَّمِيمِيِّ الْحَنْظَلِيِّ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ وَأَشَارَ الْآخَرُ بِغَيْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا أَرَدْتَ خِلَافِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ (ﷺ)، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ إِلَى قَوْلِهِ عَظِيمٌ سورة الحجرات آية 2- 3، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ :‏‏‏‏ فَكَانَ عُمَرُ بَعْدُ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ إِذَا حَدَّثَ النَّبِيَّ (ﷺ) بِحَدِيثٍ حَدَّثَهُ كَأَخِي السِّرَارِ لَمْ يُسْمِعْهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ.
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر نے دی، انہیں نافع بن عمر نے، ان سے ابن ابی ملکیہ نے بیان کیا کہ امت کے دو بہترین انسان قریب تھا کہ ہلاک ہوجاتے (یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) جس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس بنی تمیم کا وفد آیا تو ان میں سے ایک صاحب (عمر رضی اللہ عنہ) نے بنی مجاشع میں سے اقرع بن حابس حنظلی (رض) کو ان کا سردار بنائے جانے کا مشورہ دیا (تو انہوں نے یہ درخواست کی کہ کسی کو ہمارا سردار بنا دیجئیے) اور دوسرے صاحب (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے دوسرے (قعقاع بن سعید بن زرارہ) کو بنائے جانے کا مشورہ دیا۔ اس پر ابوبکر (رض) نے عمر (رض) سے کہا کہ آپ کا مقصد صرف میری مخالفت کرنا ہے۔ عمر (رض) نے کہا کہ میری نیت آپ کی مخالفت کرنا نہیں ہے اور نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں دونوں بزرگوں کی آواز بلند ہوگئی۔ چناچہ یہ آیت نازل ہوئی يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتکم‏ اے لوگوں ! جو ایمان لے آئے ہو اپنی آواز کو بلند نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد عظيم‏تک۔ ابن ابی ملکیہ نے بیان کیا کہ ابن زبیر (رض) کہتے تھے کہ عمر (رض) نے اس آیت کے اترنے کے بعد یہ طریقہ اختیار کیا اور ابن زبیر نے ابوبکر (رض) اپنے نانا کا ذکر کیا وہ جب نبی کریم ﷺ سے کچھ عرض کرتے تو اتنی آہستگی سے جیسے کوئی کان میں بات کرتا ہے حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کو بات سنائی نہ دیتی تو آپ دوبارہ پوچھتے کیا کہا۔