حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ (ﷺ)، يَقُولُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فِي الْأَخِيرَةِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128.
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور انہیں عبداللہ بن عمر (رض) نے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فجر کی نماز میں یہ دعا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد پڑھتے تھے اللهم ربنا ولک الحمداے اللہ ! ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! فلاں اور فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی کہ آپ کو اس معاملہ میں کوئی اختیار نہیں ہے اللہ ! ان کی توبہ قبول کرلے یا انہیں عذاب دے کہ بلاشبہ وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔