حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ (ﷺ). ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ شَيْبَةَ ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ (ﷺ) عَنِ الْحَيْضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنْهُ ؟، قَالَ: تَأْخُذِينَ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَوَضَّئِينَ بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): تَوَضَّئِي، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): تَوَضَّئِينَ بِهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَرَفْتُ الَّذِي يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فَجَذَبْتُهَا إِلَيَّ فَعَلَّمْتُهَا.
ہم سے یحییٰ بن جعفر بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے منصور بن صفیہ نے، ان سے کی والدہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ ایک خاتون نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا اور ہم سے محمد نے بیان کیا یعنی ابن عقبہ نے، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان النمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن بن شیبہ نے بیان کیا، ان سے ان کی والدہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے حیض کے متعلق پوچھا کہ اس سے غسل کس طرح کیا جائے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مشک لگا ہوا ایک کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر۔ اس عورت نے پوچھا : یا رسول اللہ ! میں اس سے پاکی کس طرح حاصل کروں گی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس سے پاکی حاصل کرو۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ کس طرح پاکی حاصل کروں ؟ نبی کریم ﷺ نے پھر وہی جواب دیا کہ پاکی حاصل کرو۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کا منشا سمجھ گئی اور اس عورت کو میں نے اپنی طرف کھینچ لیا اور انہیں طریقہ بتایا کہ پاکی سے آپ کا مطلب یہ ہے کہ اس کپڑے کو خون کے مقاموں پر پھیر تاکہ خون کی بدبو رفع ہوجائے۔