حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لَيْلَةً، وَالنَّبِيُّ (ﷺ) عِنْدَهَا لِأَنْظُرَ كَيْفَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) بِاللَّيْلِ، فَتَحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً، ثُمَّ رَقَدَ، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ بَعْضُهُ قَعَدَ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَرَأَ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190، ثُمَّ قَامَ، فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ، ثُمَّ صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى لِلنَّاسِ الصُّبْحَ.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے خبر دی، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ ایک رات میں نے ام المؤمنین میمونہ (رض) کے گھر گزاری اس رات نبی کریم ﷺ انہیں کے پاس تھے۔ میرا مقصد رات میں نبی کریم ﷺ کی نماز دیکھنا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے تھوڑی دیر تو اپنی اہلیہ کے ساتھ بات چیت کی پھر سو گئے۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ یا بعض حصہ باقی رہ گیا تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھ کر یہ آیت پڑھی إن في خلق السموات والأرض بلاشبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں پھر اٹھ کر آپ نے وضو کیا اور مسواک کی، پھر گیارہ رکعتیں پڑھیں، پھر بلال (رض) نے نماز کے لیے اذان دی اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر باہر آگئے اور لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔