حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَاصَرَ النَّبِيُّ (ﷺ) أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَفْتَحْهَا، فَقَالَ: إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: نَقْفُلُ وَلَمْ نَفْتَحْ، قَالَ: فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ، فَغَدَوْا، فَأَصَابَتْهُمْ جِرَاحَاتٌ، قَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَكَأَنَّ ذَلِكَ أَعْجَبَهُمْ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ).
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے ابوالع اس (سائب بن فروخ) سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے، انہوں نے کہا نبی کریم ﷺ نے طائف والوں کو گھیر لیا، اس کو فتح نہیں کیا۔ آخر آپ ﷺ نے فرمایا کل اللہ نے چاہا تو ہم مدینہ کو لوٹ چلیں گے، اس پر مسلمان بولے واہ ہم فتح کئے بغیر لوٹ جائیں، آپ نے فرمایا کہ ایسا ہے تو پھر کل سویرے لڑائی شروع کرو، صبح کو مسلمان لڑنے لگے لیکن (قلع فتح نہیں ہوا) مسلمان زخمی ہوئے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ صبح کو اللہ نے چاہا تو ہم مدینہ لوٹ چلیں گے، اس پر مسلمان خوش ہوئے، مسلمانوں کا یہ حال دیکھ کر نبی کریم ﷺ مسکرائے۔