hadith book logo

Sunan Darimi: Hadith 1035

.

سنن الدارمي

1035
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا وَأَخْرَجُوهَا مِنْ الْبَيْتِ وَلَمْ تَكُنْ مَعَهُمْ فِي الْبُيُوتِ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَأَنْ يُشَارِبُوهُنَّ وَأَنْ يَكُنَّ مَعَهُمْ فِي الْبُيُوتِ وَأَنْ يَفْعَلُوا كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا النِّكَاحَ فَقَالَتْ الْيَهُودُ مَا يُرِيدُ هَذَا أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ فَجَاءَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ بِذَلِكَ وَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَعُّرًا شَدِيدًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَقَامَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةُ لَبَنٍ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمَا فَرَدَّهُمَا فَسَقَاهُمَا فَعَلِمْنَا أَنَّهُ لَمْ يَغْضَبْ عَلَيْهِمَا
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو وہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں تھے بلکہ اسے گھر سے نکال دیتے تھے اور وہ عورت ان لوگوں کے ساتھ گھر میں نہیں رہ سکتی تھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں سوال کیا گیا تب اللہ نے یہ آیت نازل کی " لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم فرمادو وہ ناپاکی ہے۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو ہدایت کی کہ وہ خواتین کے ساتھ کھا سکتے ہیں ان کے ساتھ پی سکتے ہیں اور ان کے ساتھ گھر میں رہ سکتے ہیں نیز صحبت کرنے کے علاوہ سب کچھ کرسکتے ہیں یہ سن کر یہودیوں نے کہا یہ صاحب ہر معاملے میں ہماری مخالفت کرنا چاہتے ہیں۔
عباد بن بشیر اور اسید بن حضیر نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا اور عرض کی کیوں نہ ہم لوگ ان خواتین کے ساتھ حیض کی حالت میں صحبت کرلیا کریں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہوگیا حتی کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اب ان دونوں حضرات پر شدید ناراضگی کا اظہار کریں گے یہ دونوں حضرات اٹھ کر وہاں سے چلے گئے اور اس کے فورا بعد دودھ کا تحفہ آیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا جو انھیں واپس لایا آپ نے ان دونوں کو دودھ پلایا جس سے ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ آپ ان حضرات پر شدید ناراض نہیں ہوئے۔