أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيُّ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ كَانَتْ الْيَهُودُ لَا تَأْلُو مَا شَدَّدَتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ كَانُوا يَقُولُونَ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْتُوا نِسَاءَكُمْ إِلَّا مِنْ وَجْهٍ وَاحِدٍ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ فَخَلَّى اللَّهُ بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِمْ
حضرت حسن فرماتے ہیں یہود مسلمانوں پر اعتراض کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے تھے وہ یہ کہا کرتے تھے اے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیو ! اللہ کی قسم تمہارے لیے صرف ایک ہی طریقے کے ساتھ اپنی بیویوں سے صحبت کرنا جائز ہے تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ " تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آسکتے ہو۔ حسن بصری فرماتے ہیں اللہ نے اہل ایمان کی خواہش کے مطابق انھیں سہولت عطا کی۔