أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعِشَاءِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ أَنَامَ الْغُلَيِّمُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا فَقَامَ فَصَلَّى فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ کے ہاں موجود تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کے بعد تشریف لائے آپ نے چار رکعات ادا کی پھر آپ کھڑے ہوئے تو دریافت کیا کیا ننھے میاں سوگئے ہیں یا اسی طرح کا کوئی جملہ ارشاد فرمایا پھر آپ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا شروع کردی تو میں اٹھ کر آپ کے بائیں طرف آ کر کھڑا ہوگیا آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے دائیں طرف کردیا۔