أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ بِمَرْجِ الدِّيبَاجِ فَرَأَيْتُ مِنْهُ خَلْوَةً فَسَأَلْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَقَالَ لِي مَا تَصْنَعُ بِالْمَسَائِلِ قُلْتُ لَوْلَا الْمَسَائِلُ لَذَهَبَ الْعِلْمُ قَالَ لَا تَقُلْ ذَهَبَ الْعِلْمُ إِنَّهُ لَا يَذْهَبُ الْعِلْمُ مَا قُرِئَ الْقُرْآنُ وَلَكِنْ لَوْ قُلْتَ يَذْهَبُ الْفِقْهُ
ہشام بن مسلم قرشی بیان کرتے ہیں میں ابن محیریز کے ہمراہ مرج دیباج میں تھا جب میں نے انھیں تنہا دیکھا تو میں نے ان سے ایک مسئلہ دریافت کیا انھوں نے مجھ سے فرمایا تم مسائل کا کیا کرو گے ؟ میں نے کہا اگر مسائل نہ ہوں تو علم رخصت ہوجائے گا انھوں نے فرمایا تم یہ نہ کہو کہ علم رخصت ہوجائے گا جب تک قرآن پڑھا جاتا رہے گا علم رخصت نہیں ہوگا البتہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ فقہ رخصت ہوجائے گی۔