حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ قَالَ فَإِذَا رَجُلَانِ حِينَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدَانِ فِي نَاحِيَةٍ لَمْ يُصَلِّيَا قَالَ فَدَعَا بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا قَالَ مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا قَالَا صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا قَالَ فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الْإِمَامَ فَصَلِّيَا فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ قَالَ فَقَامَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ بِيَدِهِ يَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ قَالَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَمَسَحْتُ بِهَا وَجْهِي فَإِذَا هِيَ أَبْرَدُ مِنْ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنْ الْمِسْكِ
حضرت جابر بن زید بن اسود اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں فجر کی نماز ادا کی جس وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز ادا کررہے تھے اس وقت دو صاحبان مسجد کے کونے میں بیٹھے رہے انھوں نے نماز ادا نہیں کی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو بلایا وہ دونوں ڈرے سہمے ہوئے آئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تم لوگوں نے نماز کیوں نہیں پڑھی انھوں نے عرض کیا ہم نے پہلے نماز پڑھ لی تھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو اگر تم اپنے گھر میں نماز پڑھ لو پھر امام کو نماز پڑھتے ہوئے پاؤ تو تم بھی امام کی اقتداء میں نماز پڑھ لو یہ تمہارے لیے نفل نماز بن جائے گی۔ راوی کہتے ہیں لوگ اٹھے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک کو اپنے چہروں پر پھیرنا شروع کردیا راوی کہتے ہیں میں نے بھی آپ کا دست مبارک پکڑا اور اسے اپنے چہرے پر پھیرلیا وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھا۔