حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ يُوسُفُ الْبُوَيْطِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ هُوَ الشَّافِعِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَكَى ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ صَلَاتَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَطَبَهُمْ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں سورج گرہن ہوگیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی۔ حضرت ابن عباس (رض) نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعت ادا کی تھیں جس میں سے ہر ایک رکعت میں دو رکوع کئے تھے پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا : بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں ان دونوں کو کسی شخص کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کی پیدائش کی وجہ سے ہوتا ہے جب تم انھیں اس حالت میں دیکھو تو اللہ کے ذکر کی طرف آجاؤ۔