أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَعَرَّضَ بِهِ عُمَرُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا زِدْتُ أَنْ تَوَضَّأْتُ حِينَ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَقَالَ وَالْوُضُوءَ أَيْضًا أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب خطبہ دے رہے تھے اسی دوران ایک شخص مسجد میں داخل ہوا۔ حضرت عمر اس کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ بولا اے امیرالمومنین میں نے جب اذان کی آواز سنی تو اس کے فورا بعد صرف وضو کیا اور یہاں آگیا۔ حضرت عمر نے فرمایا کیا وضو ہی کیا ہے ؟ کیا تم نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص جمعہ کے لیے آئے تو اس شخص کو غسل کرلینا چاہیے۔