أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الْقُنُوتِ فَقَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ فُلَانًا زَعَمَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ قَالَ كَذَبَ ثُمَّ حَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ
حضرت عاصم بیان کرتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک (رض) دعائے قنوت کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا وہ رکوع سے پہلے پڑھی جائے گی عاصم بیان کرتے ہیں میں نے دریافت کیا فلاں صاحب تو یہ بیان کرتے ہیں آپ نے یہ بات بیان کی کہ رکوع کے بعد پڑھی جائے گی انھوں نے جواب دیا اس نے جھوٹ کہا ہے پھر انھوں نے یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ماہ تک رکوع کے بعد قنوت پڑھتے رہے جس میں آپ نے بنوسلیم کے ایک قبیلے کے لیے دعاء ضرر کی تھی۔