أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ قَالَ شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ أَشَهِدْتَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَيْفَ صَنَعَ قَالَ صَلَّى الْعِيدَ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ فَقَالَ مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ
ایاس بن ابورملہ بیان کرتے ہیں میں اس وقت حضرت معاویہ کے پاس تھا جب انھوں نے حضرت زید بن ارقم سے سوال کیا کہ آپ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ کسی ایسے دن عید کی نماز میں شریک ہوئے ہیں جب ایک ہی دن دو عیدیں ہوئی ہوں انھوں نے جواب دیا جی ہاں۔ حضرت معاویہ نے دریافت کیا پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا کیا تھا انھوں نے فرمایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید کی نماز ادا کی پھر جمعہ کی نماز کے لیے رخصت عطا کردی جو شخص چاہے ادا کرے جو چاہے اپنے گھر واپس چلا جائے۔