أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا قَالَ إِطْرَاقُ فَحْلِهَا وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَمِنْحَتُهَا وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
حضرت جابر (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کسی اونٹ گائے بکری کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا اسے قیامت کے دن ان کے سامنے چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا کھر والے جانور اپنے کھر کے ذریعے اسے روندیں گے اور سینگ والے جانور اپنے سینگوں کے ذریعے کے ذریعے اسے ماریں گے جانوروں میں کوئی ایسا نہیں ہوگا جس کے سینگ نہ ہوں اور نہ ہی کوئی ایسا ہوگا جس کے سینگ ٹوٹے ہوں گے لوگوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ان کا حق کیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نر جانوروں کو جفتی کے لیے ادھار دینا اس کا ڈول ادھار دینا دودھ دینے کے لیے کوئی بکری ادھار دینا جب پانی پلانا ہو تو اس کا دودھ دوہ کر (کسی کودے دینا) اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لئے) ان پر سامان لاد دینا۔