أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ الْعَبَّاسَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد آخُذُ بِهِ وَلَا أَرَى فِي تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ بَأْسًا
حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں حضرت عباس نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زکوۃ فرض ہونے سے پہلے ہی جلدی ادا کرلینے کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اس بارے میں رخصت عطاکی۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں میں اسی دلیل کے طور پر اختیار کرتا ہوں میرے نزدیک زکوۃ کی جلدی ادائیگی میں کوئی حرج نہیں۔