أَخْبَرَنَا يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَصُومُهُ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صِيَامَهُ
حضرت ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ عاشورہ کا دن ہے جس میں زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھا کرتے تھے تم میں سے جو شخص پسند کرے وہ روزہ رکھ لے جو نہ رکھناچا ہے وہ نہ رکھے۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر اس دن خود روزہ نہیں رکھتے تھے۔ البتہ ان کے معمول کے روزوں میں یہ دن آجاتا تو یہ رکھ لیتے۔