أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعًا عُمْرَتُهُ الْأُولَى الَّتِي صَدَّهُ الْمُشْرِكُونَ عَنْ الْبَيْتِ وَعُمْرَتُهُ الثَّانِيَةُ حِينَ صَالَحُوهُ فَرَجَعَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَعُمْرَتُهُ مِنْ الْجِعْرَانَةِ حِينَ قَسَّمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتُهُ مَعَ حَجَّتِهِ
قتادہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت انس (رض) سے دریافت کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنے حج کئے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا آپ نے ایک حج کیا تھا اور چار عمرے کئے تھے آپ کا پہلا عمرہ وہ تھا جس میں مشرکین نے آپ کو بیت اللہ تک جانے نہیں دیا آپ کا دوسرا عمرہ وہ تھا جس میں مشرکین نے آپ کے ساتھ صلح کی تھی اور آپ اگلے برس تشریف لائے تھے ایک عمرہ وہ تھا جو آپ نے ذیقعدہ کے مہینے میں حنین کا مال غنیمت تقسیم کرنے کے بعد جعرانہ سے کیا تھا اور ایک عمرہ وہ تھا جو آپ نے حج کے ہمراہ کیا تھا۔