حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ عَنْ التَّلْبِيَةِ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يُلَبِّي الْمُلَبِّي فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ
محمد بن ابوبکر بیان کرتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سوال کیا ہم لوگ اس وقت منیٰ سے عرفات جا رہے تھے میرا سوال تلبیہ کے بارے میں تھا آپ لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہمراہی میں کیا کرتے تھے حضرت انس (رض) نے جواب دیا کچھ لوگ تلبیہ پڑھتے تھے اور ان پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا اور کچھ لوگ تکبیر پڑھتے تھے ان پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا۔