hadith book logo

Sunan Darimi: Hadith 1815

.

سنن الدارمي

1815
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمًا كَلَّمَا ابْنَ عُمَرَ لَيَالِيَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ فَقَالَا لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَقَالَ قَدْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِرِينَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا كَانَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ سَارَ فَقَالَ إِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي قَالَ نَافِعٌ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعَى لَهُمَا سَعْيًا وَاحِدًا ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى جَاءَ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَهْدَى وَكَانَ يَقُولُ مَنْ جَمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ فَأَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا فَلَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا يَوْمَ النَّحْرِ
نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے صاحبزادے عبداللہ اور سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا اگر آپ اس سال حج نہ کریں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ آپ کو بیت اللہ تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا یہ اس زمانے کی بات ہے جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر پر حملہ کیا تھا اور ابھی انھیں شہید نہیں کیا تھا حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے جواب دیا ہم لوگ عمرہ کرنے کے لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ روانہ ہوئے تو بیت اللہ سے پہلے ہی کفار قریش ہمارے راستے میں رکاوٹ بن گئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہیں اپنی قربانی کا جانور ذبح کیا اور اپنا سر منڈوا لیا اور واپس تشریف لائے میں تمہیں گواہ بنا رہا ہوں میں نے عمرہ کی نیت کرلی ہے اگر مجھے بیت اللہ تک جانے دیا گیا تو میں طواف کرلوں گا اگر راستے میں رکاوٹ ڈال دی گئی تو میں وہی کروں گا جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا تھا اور میں بھی اس وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھا راوی کہتے ہیں پھر حضرت عبداللہ نے ذوالحلیفہ سے عمرہ کی نیت کی اور روانہ ہوئے اور بولے ان دونوں کی حیثیت ایک ہی ہے میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں میں نے عمرہ کے ہمراہ حج کی نیت بھی کرلی ہے نافع بیان کرتے ہیں عبداللہ بن عمر (رض) نے حج اور عمرہ کے لیے ایک طواف کیا اور ان دونوں کی ایک ہی مرتبہ سعی کی۔ اور پھر اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک قربانی کے دن انھوں نے قربانی نہیں کی۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا جو شخص حج اور عمرہ ایک ساتھ ادا کرے وہ ان دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک قربانی کے دن ان دونوں سے مکمل طور پر فارغ نہ ہوجائے۔