أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَسِيرَةٌ قَالَ قَالَ أَبِي لِأُمِّي لَوْ صَنَعْتِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَصَنَعَتْ ثَرِيدَةً وَقَالَ بِيَدِهِ يُقْلِلُ فَانْطَلَقَ أَبِي فَدَعَاهُ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى ذِرْوَتِهَا ثُمَّ قَالَ خُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ فَأَخَذُوا مِنْ نَوَاحِيهَا فَلَمَّا طَعِمُوا دَعَا لَهُمْ فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِي رِزْقِهِمْ
حضرت عبداللہ بن بسر بیان کرتے ہیں انھیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کچھ عرصہ رہنے کا شرف حاصل ہوا میرے والد نے میری والدہ سے کہا اگر تم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھانا تیار کرو تو یہ مناسب ہوگا انھوں نے ثرید تیار کردیا اور ہاتھ کے ذریعے اشارہ کرکے بتایا کہ یہ تھوڑا ہے میرے والد گئے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلا لائے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک کھانے کے اوپر رکھا اور فرمایا اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو انھوں نے کناروں سے کھانا شروع کردیا جب سب لوگوں نے کھانا کھالیا تو آپ نے ان کے لیے دعا کی۔ اے اللہ ان کی مغفرت فرما ان پر رحم کر ان کے رزق میں برکت عطا فرما۔