أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ نَزَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّفْنَا لَهُ طَعَامًا فِيهِ شَيْءٌ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ فَلَمَّا أَتَيْنَاهُ بِهِ كَرِهَهُ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ كُلُوهُ فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي قَالَ أَبُو مُحَمَّد إِذَا لَمْ يُؤْذِ أَحَدًا فَلَا بَأْسَ بِأَكْلِهِ
ام ایوب بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف لائے آپ کا کھانا تیار کیا کرتے تھے ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں یہ سبزی پیش کی گئی جب ہم وہ لے کر آپ کی خدمت میں آئے تو آپ نے اسے ناپسند کیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا تم اسے کھالو کیونکہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں (اسے کھا کر اپنے ساتھی فرشتہ کو) اذیت نہ پہنچاؤں۔ امام دارمی فرماتے ہیں اگر کسی شخص کو اذیت نہ ہوتی ہو تو اس کو کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔