أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ ذَئِرْنَ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ
حضرت ایاس بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا اللہ کی کنیزوں کو مارو نہیں۔ حضرت عمر بن خطاب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی خواتین اپنے شوہروں کا مقابلہ کرنے لگی ہیں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مردوں کو رخصت عطا کی وہ انھیں مار سکتے ہیں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل خانہ کے پاس بکثرت خواتین آنے لگیں جو اپنے شوہروں کی شکایت پیش کرتی تھیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا محمد کے اہل خانہ کے پاس بہت سی خواتین آرہی ہیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کرتی ہیں ایسے لوگ اچھے لوگ نہیں ہیں۔ (جو اپنی بیویوں کو مارتے ہیں)