أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ يَرُدُّ الْحَدِيثَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْجَارِيَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ أَفَيَعْزِلُ عَنْهَا وَتَكُونُ عِنْدَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَيَعْزِلُ عَنْهَا قَالَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرًا وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرًا
حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ایک شخص کی کنیز ہے وہ اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور اسے یہ پسند نہیں کہ وہ حاملہ ہوجائے وہ اس کے ساتھ عزل کرتا ہے اسی طرح ایک شخص کی بیوی ہے جو بچے کو دودھ پلاتی ہے وہ اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور یہ بات اسے پسند نہیں کہ وہ حاملہ ہوجائے کیا وہ اس کے ساتھ عزل کرسکتا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر تم ایسا نہ بھی کرو تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ تو طے شدہ ہے۔ ابن عون بیان کرتے ہیں میں نے اس بات کا ذکر حضرت حسن بصری سے کیا تو وہ بولے اللہ کی قسم یہ زجر (ناپسندیدگی ظاہر کر کے روکنے) کی مانند ہے۔