أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقُلْتُ إِنَّهُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ہاں تشریف لائے اس وقت ان کے پاس ایک صاحب موجود تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہوگیا گویا آپ نے ان کی موجودگی کو ناپسند کیا میں نے عرض کی یہ میرے بھائی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اپنے رضاعی بھائیوں کی تحقیق کرلیا کرو کیونکہ رضاعت بھوک سے ثابت ہوتی ہے۔