أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ الْحَكَمُ قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ أَفْصِلُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ أَنْ لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ وَلَا طَلَاقَ قَبْلَ إِمْلَاكٍ وَلَا عَتَاقَ حَتَّى يَبْتَاعَ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ مَنْ سُلَيْمَانُ قَالَ أَحْسَبُ كَاتِبًا مِنْ كُتَّابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ
حکم بیان کرتے ہیں یحییٰ بن حمزہ نے مجھ سے بیان کیا میں یہ بات یقین سے کرسکتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے اہل یمن کو خط کے ذریعے یہ حکم بھیجا تھا کہ قرآن کو صرف باوضو ہاتھ لگاسکتا ہے اور شادی سے پہلے طلاق نہیں دی جاسکتی اور (غلام یا کنیز) کو خرید نے سے پہلے آزاد نہیں کیا جاسکتا۔ امام ابومحمد دارمی سے اس حدیث کے راوی سلیمان بن ابوداؤد جنہوں نے زہری سے یہ روایت نقل کی ہے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو امام ابومحمد دارمی نے کہا میرا خیال ہے کہ یہ صاحب حضرت عمربن عبدالعزیز کے سیکرٹری تھے۔