أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ قَالَ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِبِضْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَشَوَّفَتْ فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَذُكِرَ أَمْرُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ تَفْعَلْ فَقَدْ انْقَضَى أَجَلُهَا
ابوسنابل بیان کرتے ہیں سبیعہ بنت حارث نے اپنے شوہر کی وفات کے بیس سے کچھ دن بعد بچے کو جنم دیا جب وہ نفاس میں مبتلا ہوئی انھوں نے بناؤ سنگھار کیا تو اس بات پر ان پر اعتراض کیا گیا انھوں نے اپنے معاملے کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ سے کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ ایسا کرسکتی ہے کیونکہ اس کی عدت ختم ہوچکی ہے۔