أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلًا لَهَا فَقَالَ لَهَا رَجُلٌ لَيْسَ لَكِ أَنْ تَخْرُجِي قَالَتْ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ اخْرُجِي فَجُدِّي نَخْلَكِ فَلَعَلَّكِ أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَصْنَعِي مَعْرُوفًا
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں میری خالہ کو طلاق دے دی گئی انھوں نے یہ ارادہ کرلیا کہ وہ اپنے کھجوروں کے باغ کی دیکھ بھال کیا کریں تو ایک شخص نے ان سے کہا کہ تمہیں اس بات کی اجازت نہیں کہ تم گھر سے باہر نکلو وہ خاتون بیان کرتی ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم گھر سے باہر نکلو اور اپنے باغ میں کام کرو۔ شاید تم اسے صدقہ کردو یا نیکی کے کسی اور کام میں استعمال کرو۔